چین عرب مضبوط تعلقات کا ایک نیا باب۔ | تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

یہ ایک حقیقت ہے کہ نئی صدی کے آغاز سے ہی چین اور عرب ممالک کے تعلقات نئی بلندیوں کو چھورہے ہیں۔ دسمبر 2022 میں سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہونے والے پہلی چین عرب ممالک سمٹ میں چین اور عرب ریاستوں نے نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی حامل چین عرب کمیونٹی کی تعمیر پر اتفاق کیا تھا۔اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ابھی حال ہی میں بیجنگ میں چین عرب ممالک تعاون فورم  کی دسویں وزارتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر چین کے صدر شی جن پھنگ نے چین اور عرب ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی تعاون کو گہرا کریں اور مشترکہ مستقبل کی حامل چین عرب کمیونٹی کی تعمیر کو آگے بڑھائیں۔

شی جن پھنگ نے حالیہ وزارتی کانفرنس سے اپنے خطاب میں پہلی چین عرب ممالک سمٹ کے نتائج اور پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ چین عرب فریق کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ چین عرب تعلقات کی مسلسل “تیز رفتار ترقی” کے لئے اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کرنے میں سربراہی اجلاس کے کردار کو بڑھایا جا سکے۔شی جن پھنگ نے اعلان کیا کہ چین 2026 میں دوسرے چین عرب ممالک سمٹ کی میزبانی کرے گا، جو چین عرب تعلقات میں ایک اور سنگ میل ثابت ہوگا۔

وسیع تناظر میں اس وقت ایک صدی میں نظر نہ آنے والی تبدیلیاں دنیا بھر میں تیزی سے سامنے آ رہی ہیں جبکہ چین اور عرب ممالک قومی احیاء اور تیز تر قومی ترقی کے اپنے تاریخی مشن کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ شی جن پھنگ نے کہا کہ مشترکہ مستقبل کی حامل چین عرب کمیونٹی کی تعمیر  ،چین عرب تعلقات کے نئے دور اور دنیا کے بہتر مستقبل کی مشترکہ خواہش کی ایک مضبوط عکاسی ہے۔انہوں نے کہا کہ چین عرب ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ چین عرب تعلقات کو عالمی امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ایک نمونہ، اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کی عمدہ مثال، تہذیبوں کے درمیان ہم آہنگی کے ساتھ بقائے باہمی کا نمونہ اور عمدہ عالمی گورننس کو فروغ دینے کا نمونہ بنایا جا سکے۔مبصرین یہ امید کرتے ہیں کہ آئندہ عرصے میں چین اور عرب ریاستوں کے درمیان اسٹریٹجک باہمی اعتماد کو مزید مستحکم کیا جائے گا، مختلف شعبوں میں تعاون کو جامع طور پر فروغ دیا جائے گا، اور مشترکہ مستقبل کی حامل چین عرب کمیونٹی کی تعمیر میں مزید ٹھوس اقدامات دیکھنے کو ملیں گے۔

حالیہ وزارتی کانفرنس کے دوران چین نے عرب ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کے لیے تعاون کے پانچ فریم ورک کا تعین بھی کیا ہے۔اس سے قبل سنہ 2022 میں چین عرب ممالک کے پہلے سربراہ اجلاس میں شی جن پھنگ نے عملی تعاون کے لیے “آٹھ بڑے تعاون کے اقدامات” پیش کیے تھے۔شی جن پھنگ نے کہا کہ تمام “آٹھ بڑے تعاون کے اقدامات” میں ابتدائی نتائج حاصل کیے گئے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ چین مشترکہ مستقبل کی حامل چین عرب کمیونٹی کی تعمیر کو تیز کرنے کے لئے “پانچ تعاون فریم ورک” تشکیل دینے کی بنیاد پر عرب فریق کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہے.یہ پانچ فریم ورک جدت طرازی کے لئے زیادہ متحرک فریم ورک، سرمایہ کاری اور مالی تعاون کے لئے ایک توسیع شدہ فریم ورک، توانائی تعاون کے لئے ایک زیادہ کثیر الجہتی فریم ورک، باہمی فائدہ مند اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے لئے زیادہ متوازن فریم ورک اور افرادی تبادلوں کے لئے ایک وسیع فریم ورک پر مشتمل ہیں۔چین عرب فریق کے ساتھ مل کر زندگی اور صحت، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، سبز اور کم کاربن ترقی، جدید زراعت اور خلائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں 10 مشترکہ لیبارٹریاں تعمیر کرے گا۔ شی جن پھنگ نے یہ بھی واضح کیا کہ دونوں فریق مصنوعی ذہانت پر تعاون میں اضافہ کریں گے تاکہ اس کی مدد سے حقیقی معیشت کو بااختیار بنایا جاسکے اور مصنوعی ذہانت سے متعلق وسیع البنیاد عالمی گورننس سسٹم کو فروغ دیا جاسکے۔

شی جن پھنگ نے مزید یہ بھی کہا کہ چین عرب فریق کے ساتھ صنعت اور سرمایہ کاری تعاون فورم قائم کرنے کے لئے تیار ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ چین دونوں اطراف کے مالیاتی اداروں کے مابین قریبی تعاون کی حمایت کرتا ہے ، اور عرب بینکوں کو سرحد پار انٹربینک ادائیگی کے نظام میں شامل ہونے کا خیرمقدم کرتا ہے۔ چین ، تیل اور گیس کے شعبے میں عرب فریق کے ساتھ تزویراتی تعاون کو مزید بڑھائے گا اور نئی توانائی ٹیکنالوجی سے متعلق آر اینڈ ڈی اور سازوسامان کی پیداوار پر عرب فریق کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔

چینی صدر کی جانب سے حالیہ وزارتی کانفرنس میں ایک مرتبہ پھر یہ واضح پیغام دیا گیا کہ چین ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کرتا ہے جسے 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر مکمل خودمختاری حاصل ہو اور جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کی حمایت کرتا ہے اور زیادہ وسیع البنیاد، مستند اور موثر بین الاقوامی امن کانفرنس کی حمایت کرتا ہے۔شی جن پھنگ نے کہا کہ چین غزہ میں انسانی بحران کو کم کرنے اور تنازع کے بعد کی تعمیر نو میں مدد فراہم کرنے اور غزہ کو ہنگامی انسانی امداد فراہم کرنے میں مشرق قریب میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے کام کی حمایت جاری رکھے گا۔اس اہم تقریب کے دوران بیجنگ اعلامیہ، 2024 تا 2026 کے لیے وزارتی کانفرنس کے عملدرآمد کے منصوبے اور فلسطین کے مسئلے پر چین عرب ممالک کے مشترکہ بیان کی منظوری دی گئی۔کانفرنس کے دوران چین نے شریک ممالک اور عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ کے ساتھ متعدد دوطرفہ اور کثیر الجہتی تعاون کی دستاویزات پر بھی دستخط کیے جس سے چین اور عرب ممالک کے درمیان مختلف شعبہ جات میں تبادلہ و تعاون کے نئے امکانات سامنے آئیں گے۔

SAK

شاہد افراز خان کی مزید تحریریں پڑھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share via
Copy link