شہید آوینی کی کتاب “آغازی بر یک پایان” پر تبصرہ۔ | تبصرہ نگار : عارف بلتستانی

مرتضیٰ آوینی کے نام سے تو آپ آشنا ہی ہوں گے۔ آپ علامہ اقبال کی طرح مغربی آئیڈیالوجی اور افکار کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے بعد اس پر ہمیشہ تنقیدی نگاہ سے تبصرہ کیا کرتے تھے ۔ آپ ایک محقق، لکھاری، نظریہ ساز، دانشور، فلم ساز، ادیب اور اعلیٰ پائے کے نقاد بھی تھے۔ ہیروڈوٹس، والٹیئر، مونٹیسکو، روسو، ڈیوڈ ہیوم، ڈیوڈ ہلڈ، جان لاک، مکیاویلی، آلن دو بنوا، چارلس ڈارون، ویل ڈیورانٹ، سگمنڈ فرائڈ، آگسٹ کانٹ، میکس ویبر اور ریچارڈ جیسی شخصیات کے افکار و نظریات پر انہوں نے قلم اٹھایا۔  شاید ہی کوئی ایسا ہو جس نے ان کی کم از کم ایک تحریر نہ پڑھی ہو یا “روایت فتح” کے دوران ان کی دل نشین آواز نہ سنی ہو۔

اس تحریر میں، ہم نے شہید آوینی کی کتاب ” آغازی بر یک پایان”(ایک اختتام کا آغاز ) کتاب پر ایک نظر ڈالی ہے جس میں دینی حکومت، نظام ولایت فقیہ، اسلامی تمدن اور مغربی تمدن کا تقابل اور انسانیت کا مستقبل جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے ہیں، جو 1993- 1989 کے دوران شائع ہوئی تھی۔

 کتاب چار ابواب پر مشتمل ہیں۔ پہلا باب چار مضمون پر مشتمل ہے، جو امام خمینیؒ کے بارے میں لکھی گئی ہے۔ مصنف ان مضامین میں امام کی وفات کو “ناقابل تسلی دکھ” قرار دیتے ہیں، اگرچہ “مبشرِ صبح” نامی مقالے  میں وہ ان کے جانشین “سید علی خامنہ ای” کو اسی کا ثانی قرار دیتے ہیں اور ان سے ملاقات کو ولایت سے تجدیدِ عہد کے طور پر تصور کرتے ہیں۔ اس حصے کے آخری دو تحریروں میں، شہید آوینی انقلاب کے رہبر اور ان کے عمل کو “انسان کی باطنی حیات” سے جوڑتے ہیں اور 1980 کی دہائی کو امام خمینیؒ کی دہائی قرار دیتے ہیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تمام تاریخی تبدیلیوں کے بعد، اسلام کی حاکمیت اور امت واحدہ کی تشکیل کی طرف پیش قدمی کی جائے گی۔

دوسرا باب چار مقالوں پر مشتمل ہیں جو انقلاب اسلامی اور اس کی بنیادوں پر لکھی گئی ہے

   یہ باب کتاب کا ضخیم اور مفصل حصہ ہے۔ جو اسلامی انقلاب، اس کے اعتقادی و سیاسی بنیادوں اور نظامِ ولایت فقیہ کے متعلق ہے۔ مصنف پہلے مقالے (جس کا عنوان “گردابِ شیطان (شیطان کے بھنور میں گرنا” ہے) میں اسلامی انقلاب کی ماہیت کو دنیا کے تمام دیگر انقلابات سے مختلف قرار دیتے ہیں۔ مصنف اس خصوصیت کے دو عوامل بیان کرتے ہیں۔ پہلا امام خمینیؒ کی قیادت، جنہوں نے اسلامی حکومت کے نظریے کو پیش کر کے اس کے عملی نفاذ کا امکان پیدا کیا۔ دوسرا مسلط کردہ جنگ (جنگِ تحمیلی)، جس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ انقلاب اپنے اصل ہدف سے تحریف نہیں ہو سکتا۔  شہید آوینی کے مطابق، مغربی طرز پر اقتصادی ترقی اور ٹیکنوکریسی کو ملک کے لیے واحد راستہ سمجھنا “گردابِ شیطان/ شیطان کے بھنور” میں گرنے اور اسلامی انقلاب کے اصول و عالی اہداف سے دور ہونے کے مترادف ہے۔

اس باب کے دوسرے مقالے میں جس کا عنوان ہے “در برابر فرھنگ واحد جھانی/ ایک عالمی ثقافت کے خلاف” عالمی استکبار کے نظام کو ایک جامع نظام کے طور پر زیر بحث لایا گیا ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے اور تمام معاشروں پر تسلط قائم کرنے کے در پے ہے۔ شہید آوینی کے نزدیک اس استکباری تسلط میں تین بنیادی عوامل کار فرما ہیں۔    جدید اور ترقی یافتہ ٹیکنالوجی، اس کے مقابلے میں انسانی معاشروں کی کمزوری اور اس سے پیدا ہونے والی مادی سہولیات اور تیسرا خوف کا عنصر ہے۔ شہید آوینی کے مطابق عسکریت پسندی، ٹیکنالوجی کی ترقی کے نظام کی روح ہے اور اس کے اصول و ضوابط کی محافظ ہے۔ اس لیئے موت اور تباہی کا خوف کمزور معاشروں کو استکباری تسلط کے سامنے جھکنے پر مجبور کرتا ہے۔ شہید آوینی کہتے ہیں کہ اس عالمی اقتصادی اور ثقافتی نظام کے کنٹرول سے چھٹکارا حاصل کرنے اور آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک قسم کا آزاد خطہ تشکیل دینا ہے جس کی ایک علمی و فکری بنیاد ہو۔

اس باب کا تیسرا مقالہ “اسلامی پروسٹروکا موجود نہیں ہے” عنوان سے ظاہر ہے، یہ سوویت یونین کے انہدام کے پس منظر میں یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا اسلامی انقلاب کے ساتھ بھی ایسا کچھ ہو سکتا ہے؟ شہید آوینی پہلے جمہوریت پر تنقید کرتے ہیں اور اسے اسلامی نظامِ ولایت سے الگ بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سوویت کمیونزم اور مغربی جمہوریت درحقیقت ایک ہی چیز کی دو شکلیں ہیں، کیوں کہ دونوں انسان پرستی (ہیومنزم) پر مبنی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلامی حکومت کا ہیومینزم کے ساتھ ملاپ ممکن نہیں، کیوں کہ یہ اسلام کے بنیادی اصولوں سے انحراف ہوگا۔ شہید کے مطابق، مشرق و مغرب کی سیاسی قوتیں اپنے عروج کو پیچھے چھوڑ چکی ہیں۔  رنسانس کے برعکس، جس نے انسان کو مذہب سے دور کر کے صرف مادی دنیا تک محدود کر دیا، اب وقت آگیا ہے کہ ایک نیا انقلاب آئے اور انسان دوبارہ روحانیت اور معنوی اقدار کی طرف لوٹے۔

اس باب کے چوتھے مضمون میں شہید آوینی “وفاق اجتماعی” نامی مضمون میں وفاق اجتماعی کی تعریف کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ صرف دین ہی ایک پائیدار اجتماعی اتحاد قائم کر سکتا ہے اگرچہ دیگر عوامل بھی عارضی طور پر لوگوں کو متحد کر سکتے ہیں اور انہیں ایک مشترکہ راستے پر لے جا سکتے ہیں۔ شہید آوینی جرمن سوشیالوجیسٹ میکس ویبر کے خیالات، خاص طور پر اس کی مشہور کتاب “پروٹسٹنٹ اخلاق اور سرمایہ داری کی روح” کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ مغربی تمدن بھی درحقیقت ایک مذہبی بنیادوں پر قائم اجتماعی اتحاد کا نتیجہ ہے۔ لیکن یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ اتحاد نہ صرف دین کے ظاہری احکام پر بلکہ اس کے باطنی اور حقیقی معنوں پر بھی مبنی ہونا چاہیے تاکہ معاشرے میں اس کا صحیح طریقے سے نفاذ ہو سکے۔

تیسرا باب دو مقالوں پر مشتمل ہے جو عالم اسلام اور ظلم کے خلاف جدوجہد پر لکھی گئی ہے۔

تیسرے باب میں آوینی بلقان کی خونریز لڑائیوں اور بوسنیا و ہرزیگووین کے مسلمانوں کے قتل عام پر بات کرتے ہیں۔ وہ اپنے مضامین “صلیبی از خون سرخ” اور “ارتش متحد اسلامی” میں دنیا کے اس انسانی المیے کے ردعمل پر توجہ دیتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ انسانی جرائم پر ردعمل کا تعین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کرتے ہیں، اور جب تک ان مفادات کو خطرہ نہ ہو، انسانوں کی جانوں کے تحفظ کی کوئی آواز نہیں اٹھائی جائے گی۔ یہ بات اس لیئے اور بھی اہم ہے کہ آج صہیونی فوج کے غزہ میں کیئے گئے مظالم اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر ہونے والے ظلم نے ایک متحد اسلامی محاذ کی ضرورت کو اور بھی واضح کر دیا ہے جو مفاد پرستی اور ریاکاری سے پاک ہو، تاکہ مظلوموں کی حمایت اور ظالموں سے مقابلہ کیا جا سکے۔

چوتھا باب پانچ مقالوں پر مشتمل ہے جو مغربی تمدن کا زوال، اسلامی تمدن کے عروج اور دولت حق پر لکھی گئ ہے۔

   شہید آوینی نے اس باب میں گلوبل ولیج اور جہانی زندان اور اے آئی کا انسان معاشرے پر تسلط کے بارے میں قلم اٹھایا ہے اور شہید کا ماننا یہ ہے کہ مغربی تمدن تمام تر ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کے باوجود بن گلی میں پھنسنا ہی انکا مقدر ہے اور وہ اپنے انجام کو پہنچ جائے گا اور مظلومین کے سرخ لہو انکو مزید بہا کر لے جائے گا کیوں کہ ان کی بنیاد انسان اور مادہ پرستی پر ہے، جو ہوا میں معلق ہے۔ جیسے کہ علامہ اقبال نے فرمایا تھا،

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی

جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا

جبکہ انقلاب اسلامی انسانی بیداری ، اسلامی تمدن کا آغاز ہے اور ونرید ان نمن علی الذین الستضعفوا فی الارض… کی تکمیل کےلئے ایک پیش خیمہ ہے۔ اس کےلیئے ایک نئی حرکت اور انقلاب ضروری ہے۔ کیوں کہ انسان کی ذات فطری طور پر تحول و تغیر، دگرگونی اور بے قراری پر استوار ہے۔ ہمیشہ حرکت میں رہتا ہے۔ جو انسان کو وضع موجود یعنی موجودہ حالت سے بے زار کر کے  وضع مطلوب (عدالت جہانی) کی طرف لے جاتی ہے۔ اسی لئے علامہ اقبال نے فرمایا  تھا کہ

ہے وہی تیرے  زمانے کا  امام  برحق 

جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے

AB
عارف بلتستانی کی مزید تحریریں پڑھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share via
Copy link