قومی بچت اسکیمیں اور پالیسی ریٹس۔ | تحریر: ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترال
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے پالیسی ریٹ 12 فیصد برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد سنٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز (سی ڈی این ایس) نے قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں ردوبدل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس تبدیلی کے تحت مختلف اسکیموں پر منافع کی شرح میں 70 بیسس پوائنٹس تک اضافہ ہوا جبکہ سیونگ اکاؤنٹ ریٹ پر ریٹرن میں 100 بیسس پوائنٹ کی کمی کی گئی ہے۔ نئی شرح کے مطابق شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹ کا منافع 10.81 فیصد سے بڑھ کر 10.96 فیصد ہو گیا ہے جبکہ ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ کی شرح 12.5 فیصد تک پہنچ گئی۔ اسی طرح بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ، پنشنر بینیفٹ اکاؤنٹ اور شہداء فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ کی شرح 13.68 فیصد ہو گئی۔ سروا اسلامک ٹرم اکاؤنٹ اور سروا اسلامک سیونگ اکاؤنٹ پر منافع 10.44 فیصد تک بڑھا دیا گیا جبکہ سیونگ اکاؤنٹ ریٹ پر ریٹرن میں 100 بیسس پوائنٹ کمی کرتے ہوئے نئی شرح 10.5 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
برصغیر میں برطانوی حکومت نے قومی بچت کے ادارے کو متعارف کرایا تھا جو قیام پاکستان کے بعد بھی فعال رہا۔ اس ادارے کے تحت سیونگ کلچر کو فروغ دینے کے لیے مختلف اسکیمیں متعارف کروائی گئیں جن کا مقصد عوام، بالخصوص پنشنرز، بیواؤں اور بزرگ شہریوں کے لیے مالی استحکام فراہم کرنا تھا۔ ان اسکیموں کے ذریعے ہزاروں افراد اپنی پونجی محفوظ کر کے ضروریات زندگی پوری کرتے رہے ہیں۔
پالیسی ریٹ کے مطابق قومی بچت اسکیموں کی شرح منافع میں وقتاً فوقتاً اضافہ یا کمی کی جاتی رہی ہے۔ ابتدا میں کارپوریٹ اداروں نے بھی ان اسکیموں سے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا، لیکن 2020 میں چھوٹے سرمایہ کاروں کے تحفظ کے پیش نظر کارپوریٹ سرمایہ کاری پر پابندی عائد کر دی گئی۔ قومی بچت اسکیموں میں شرح منافع میں کمی سے عام آدمی پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، خصوصاً وہ افراد جو اپنی ماہانہ ضروریات کے لیے ان اسکیموں پر انحصار کرتے ہیں۔
2021 میں قومی بچت اسکیموں پر حاصل ہونے والے نفع پر ٹیکس کی شرح میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ نومبر 2024 میں حکومت نے قومی بچت کے مختلف سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح میں 360 بیسس پوائنٹس تک کمی کر دی تھی، جس نے سرمایہ کاروں کو متاثر کیا۔
قومی بچت اسکیموں کو مستحکم رکھنے اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان پر ٹیکس کی شرح کم رکھی جائے اور ان کی منافع کی شرح میں اچانک کمی سے اجتناب کیا جائے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کے تحت قومی بچت اسکیموں کی شرح منافع میں جو رد و بدل کیا جاتا ہے، وہ ملک کی معاشی صورتحال اور عوامی مفادات دونوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت ان اسکیموں کی پالیسی سازی میں عوامی ضروریات کو مدنظر رکھے اور ایک متوازن حکمت عملی اپنائے تاکہ قومی بچت کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔