ابتدائی تعلیم۔|| تحریر: ڈاکٹر ساجد خاکوانی

                ابتدائی تعلیم کاآغازعہدالست  کے ساتھ ہوگیاتھا جب روحانی وحقیقی وجودملتے ہی سب سے پہلے معرفت رب عطاکی گئی تھی اورایک وعدہ لینے کے بعداس دنیامیں بھیجنے کاانتظام کیاگیا۔تاہم اگر کہاجائے کہ ابتدائی تعلیم کاآغازماں کے پیٹ میں ہی ہوجاتاہے توبے جانہیں ہوگا۔سب سے پہلے فطرت ہی تعلیم  یاابتدائی تعلیم کاآغازکرتی ہے اورہرہرعضوکو اس کافرض منصبی ازبرکراتی ہے۔آنکھوں کودیکھناسکھایاجاتاہے،کانوں کوسنناسکھایاجاتاہے،دل کودھڑکنا اور معدے کو جہاں ہاضمہ کی ذمہ داری سونپی جاتی وہاں جگرکاکام خون کی فراہمی ہوتاہے اورگردوں کوخون کاصاف کرنے کافن  اس ابتدائی تعلیم میں ودیت کیاجاتاہے،علی ھذاالقیاس۔قدرت کے کام میں کوتاہی تلاش نہیں کی جاسکتی کیونکہ اللہ نے سورۃ ملک میں کہا” اَلَّـذِىْ خَلَقَ سَبْعَ سَـمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَّا تَـرٰى فِىْ خَلْقِ الرَّحْـمٰنِ مِنْ تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِــعِ الْبَصَرَ هَلْ تَـرٰى مِنْ فُطُوْرٍ (3) ثُـمَّ ارْجِــعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيْرٌ (4)ترجمہ”جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے، تو رحمان کی اس صنعت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ دوڑا کیا تجھے کوئی شگاف دکھائی دیتا ہے۔ پھر دوبارہ نگاہ کر تیری طرف نگاہ ناکام لوٹ آئے گی اور وہ تھکی ہوئی ہوگی”۔جس نے پوری کائنات بغیرکسی خامی کے بنائی ہے اوراسے بطورمثال انسان کے سامنے پیش کیااس کاتخلیق کردہ اشرف المخلوقات تو بلاشبہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِىٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ (سورۃ والتین 4) ترجمہ:”بے شک ہم نے انسان کو بڑے عمدہ انداز میں پیدا کیا ہے”۔ یعنی اللہ تعالی کی قدرت کاشاہکارہے۔اس فن تخلیق کواللہ تعالی نے نزول قرآن کی اولین وحی کے ساتھ تذکرہ کیااور ماں کے پیٹ کے دورانیہ کاہی تذکرہ کیاجہاں انسان فطرت کی طرف سے اپنی ابتدائی تعلیم کے مراحل سے گزررہاہوتاہے۔قدرت تواپنے کارتخلیق میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتی لیکن انسان اپنی بے اعتدالیوں اور حدوداللہ سے گزرجانے والے نافرمانی کے رویوں کے باعث خدائی تخلیق میں بگاڑکے اثرات کابری طرح سے سامناکرتاہے اور پریشانیوں کاشکارہورہتاہے۔

                ماں کے پیٹ میں ابتدائی تعلیم پرماں کے اثرات ماضی میں توقصے کہانیاں ہی سمجھے جاتے تھے لیکن اب عصری طبی ماہرین اور ماہرین نفسیات نے اس کی تصدیق بھی کردی ہے۔اس دوران اگرماں خوش باش رہے گی،مطمئن رہے گی،کھاتی پیتی اورسیروسیاحت بھی اس کے معمولات میں شامل رہیں گے اورآرام ،چین وسکون کے ساتھ ساتھ اس کی جملہ ضروریات و خواہشات بھی پوری ہوتی رہیں گی تو نومولود بھی طبی و جذباتی و ذہنی و نفسیاتی طورپرصحت مندہوگا،بصورت دیگر چڑچڑاپن،بیماریاں،کمزوریاں اورعدم برداشت کے مکروہ تحفے ماں کے پیٹ سے جنم لینے والاساتھ لائے گا۔اللہ تعالی نے یہ دنیااس طرح بنائی ہے کہ بہت کچھ انسان کے حواس خمسہ سے پوشیدہ رکھاگیاہے اوراسے یومنون بالغیب کی تلقین کی گئی ہے۔غیب کی ان اخبارمیں جو حواس خمسہ کی دسترس سے باہررکھے گئے ہیں ایک روحانی دنیابھی ہے۔روحانیات بھی بتاتی ہے کہ باپ سے وابسطہ رزق حلال اورماں کے اثرات براہ راست پیٹ میں ابتدائی تعلیم پر ثبت ہورہے ہوتے ہیں۔اگرماں ابتدائی تعلیم کے اس دورانیے میں پاک صاف رہے گی،عفت و پاکدامنی اس پر ختم ہوگی،صوم و صلوۃ کی پابندرہے گی،اذکارودعواۃوتسبیحات ووظائف اس کے معمولات کاحصہ ہوں گے،تلاوت قرآن مجیدمیں ناغہ نہیں کرے گی،اپنی خانگی ذمہ داریاں وخدمت گاریاں بھی مقدوربھراداکرتی رہے گی اور کسی تکلیف پیش آجانے کی صورت میں ہائے وائے اور چینخنے چلانے کی بجائے صبرکادامن تھامے رکھے گی تووہ نیک اولادکوجنم دے گی اوراس کے رحم میں ابتدائی تعلیم کی خواندگی تقوی اور پاکبازی سے عبارت ہوگی اوربصورت دیگریہ دنیافساق و فجاراوررجل الدرہم والدینار اور پیٹ کی خواہش اورپیٹ سے نیچے کی خواہش کے پجاریوں سے بھری پڑی ہے جن کے لیے قرآن نے کہاہے ان الانسان لفی خسر۔

جنم لیتے ہی ابتدائی تعلیم کااگلامرحلہ شروع ہوجاتاہے۔یہ مرحلہ کم و بیش دس سالوں تک محیط ہوتاہے،جس کے بعد پھرثانوی تعلیم کے مراحل شروع ہوجاتے ہیں۔ابتدائی تعلیم کی چار بنیادیں؛اوائل عمری،معصومیت،خالی الذہنی اورمشاہدہ ہیں اور ابتدائی تعلیم کے چھ عناصر؛خودشناسی،خداشناسی،حفظ،بنیادی اخلاقیات اورمبادیات لسان وحسابیات اورتقابلات ہیں۔ابتدائی تعلیم کی پہلی بنیاداوائیل عمری میں اولین جو کلام کانوں کے راستے دماغ کی گہرائیوں اورتاریکیوں تک پہنچتاہے وہ پتھرپرلکیرکی طرح ان مٹ اور عمربھرکے لیے امرہوجاتاہے۔چنانچہ دنیامیں قدم رکھتے ہی اس کے دائیں کان میں آذان دے کراسے ابتدائی واولین تعلیم میں اللہ تعالی کی کبریائی اور درس توحید سے آشنائی فراہم کردی جاتی ہے اوربائیں کان میں اقامت کہ کراسے نمازجیسی بزرگ عبادت کا تعارف کرادیاجاتاہے جوعمربھرکاایک وظیفہ ہے جواسے تاحیات اورتادم مرگ جاری رکھناہے کہ روزمحشرسب سے پہلے اسی کے بارے میں پرسش ہونی ہے۔آذان اوراقامت کے ابتدائی اسباق اس  کے تاریک دماغ میں روشنی کاباعث بنتے ہیں اوراس کاقلب و نظروذہن وفکرنورسے بھرجاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے سورۃ بقرہ میں فرمایا”اَللَّـهُ وَلِىُّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا يُخْرِجُـهُـمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ ۖ وَالَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا اَوْلِيَآؤُهُـمُ الطَّاغُوْتُ يُخْرِجُوْنَـهُـمْ مِّنَ النُّـوْرِ اِلَى الظُّلُـمَاتِ ۗ اُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (257) ترجمہ” اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے اور انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے، اور جو لوگ کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں، یہی لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے”۔لیکن ابتدائی تعلیم ابھی نامکمل ہے کیونکہ معلم کی تعیناتی ابھی باقی ہے چنانچہ خاندان کے کسی نیک ومتقی و دینداربزرگ مردیاخاتون کے ہاتھوں شہادت کی مقدس انگلی اسے گھٹی دی جاتی ہے تاکہ بزرگ کی نیک فطرت اس نومولودمیں عودکرآئے۔سیرۃ النبیﷺ کے دوران بچوں کو گھٹی کے لیے محسن انسانیتﷺکے پاس لایاجاتاتھااورروایات کے مطابق آپﷺاپنی انگشت مبارک سے بچے کے  تالوپر شہدلگادیتے تھے جسے وہ چاٹتارہتاتھا۔یوں ابتدائی تعلیم کا قیمتی ترین مرحلہ ایک غیررسمی تعلیمی ادارے میں شروع ہوجاتاہے ۔اس عمرمیں بچے کاذہن بالکل اورکلیتاََ خالی سلیٹ اورصاف تختی کی مانندہوتاہے،بظاہربچہ سورہاہوتاہے،یاخاموش ہوتاہے یاصرف دائیں بائیں دیکھتے ہوئے نظرآتاہے یا خودسے کھیل رہاہوتاہے اورمصروف محض ہوتاہے لیکن فی الحقیقت یہ ساراماحول، آوازیں، مناظر اور خوردونوشت وغیرہ  اس کے ذہن پر اپنے قوی نقوش چھوڑرہے ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ آنے والے دنوں میں اس کی شخصیت اور یقینی طورپراس کے  کردارکاحصہ بن جائے گا۔بچہ اپنے ابتدائی دنوں میں گویاابتدائی تعلیم کے ایام میں بہت سے ہاتھوں میں کھیل رہاہوگا،ہرکوئی اسے گودلینے کے لیے بے تاب ہوگا،ہرکوئی اس کی خدمت داری  میں سبقت لے جاناچاہےگا،وہ نیندمیں ہوگاتو اس کے جاگنے کابے تابی سے انتظارہوگا،اسے کھلانے ،پلانے، نہلانے، دھلانے، پہنانے، اوڑھانے، سلانے اورلاڈپیارکے لیے  بہت سے ہاتھ بڑھ بڑھ کراسے تھامتے ہوں گے  تووہ بہت شاندارنفسیات کامالک، خوشگوار طبیعت کا خوگر،حسن خلق کامرقع ،مرجع خلائق اورمعاشرے میں کامیاب اجتماعی کرداراداکرنے کی سندامتیازلے کر تعلیم کے اگلے مرحلوں میں قدم رکھے گا۔اس کے برعکس اگراس کی ابتدائی تعلیم صرف دویاچارہاتھوں میں ہوئی،اوراس کے والدین بھراپوراگھر،خاندان ،قبیلہ اوررشتہ داروں کوچھوڑ کراوراپنی اناکوپوجتے ہوئے اس کو اتنے بڑے فطری ابتدائی  تعلیمی ادارے سے نکال کراورایک مختصرترین عمارت میں سدھارلائے تواس کی ابتدائی تعلیم میں جوکمی، کوتاہی ، خامی اورخلارہ جائیں گے وہ کبھی بھی پورے نہیں ہوں گے بلکہ اس  کی اگلی نسلوں تک میں بھی منتقل ہوتے رہیں گے اور وہ تنہائی پسند،کم ظرف،اپنی ذات میں گرفتار،آدم بیزار،نفسیاتی دباؤ کاشکار،اجتماعیت سے خوفزدہ ،دوسروں سے بے نیاز اورکافی حدتک خودغرض واقع ہوگا،الاماشااللہ۔

ابتدائی تعلیم کی دوسری بنیاد معصومیت کے ساتھ ایک خاص عمرمیں بچے کورسمی  تعلیمی ادارے میں داخل کردیا جاتاہے،یہ وہ عمرہوتی ہے جب بچہ اپنی حوائج فطریہ سے واقف  اورکسی حدتک خودکفیل بھی ہوچکاہوتاہے۔عمومی طورپر یہ ساڑھے تین سال کی عمرہوتی ہے لیکن اس میں کمی بیشی کی گنجائش ممکن ہے۔ابتدائی تعلیم میں بچے کی تربیت میں یہ قربانی شامل ہے کہ وہ چندگھنٹے کے لیے ماں کی گودچھوڑ کراپنے ابتدائی تعلیم کے ادارے میں آجاتاہے۔ابتدامیں معصوم بچے پریہ تبدیلی بوجھل ہوتی ہے،کچھ بچے اس کااظہاربھی کرتے ہیں اور ابتدائی تعلیم کے ادارے میں جاتے ہوئے روتے ہیں،ٹانگیں چلاتے ہیں،شورمچاتے ہیں اوران کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی طرح گھرکولوٹ جائیں،جوفردانہیں چھوڑتے جاتاہے اس سے چمٹے رہتے ہیں یا پھرتقاضاکرتےہیں کہ یہ بھی ادارے میں رک جائے۔لیکن کچھ بچے بظاہراظہارنہیں کرتے لیکن خاموش رہتے ہیں،سہمے ہوئے اورڈرے ہوئے رہتے ہیں،اپنابستہ اور کتابیں کاپیاں سنبھال سنبھال کررکھتے ہیں کیونکہ اس اجنبی ماحول میں یہی بستہ اس کااپناہے اورباقی سب ناآشنا اورغیرہیں اوراگر اسی  ادارے میں ان کا کوئی بہن ،بھائی،پڑوسی یا رشتہ دار پڑھتاہوتو وہ چاہتے ہیں کہ اسی کے ساتھ جاکربیٹھ جائیں۔یہ بچے ادارے کے بندہونے اور چھٹی کے وقت کابہت بے تابی سے انتظارکرتے ہیں اور دوڑلگاکرایسے نکلتے ہیں جیسے انہیں باندھ کررکھاگیاتھا۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی اپنے ہم جولیوں سے دوستیاں ہوجاتی ہیں اور معلمہ اورماحول سے مانوس ہوجاتے ہیں اور پھرشوق سے بھاگتے ہوئے مدرسے جاتے ہیں اوروہاں بہت اچھاوقت گزارتے ہیں یہ ان کی معصومیت کا ایک اورپرتوہے۔

ابتدائی تعلیم کی تیسری بنیادخالی الذہنی ہے،اس میں بچے کو سب سے پہلے عقیدہ یادکرایاجاتاہے۔یہاں اس بات کا خیال رکھاجاتاہے کہ صرف مثبت پہلو یادکرائے جائیں کیونکہ منفی پہلؤں کے باعث ابتداسے ہی اس کاخالی  ذہن مشکل میں پڑ سکتاہے مثلاََ صرف توحید پڑھائی جائے گی اورشرک کاتصورفی الحال نہیں دیاجائے گا،صرف سچ کی تلقین کی جائے گی اورجھوٹ کاذکربھی نہیں کیاجائے گااور صرف نمازپڑھنے کی تربیت دی جائے گی بے نمازی کے لیے وعیدیں اسے نہیں بتائی جائیں گی،وغیرہ۔عقیدہ کی تعلیم اسے سنائی جائے گی اوراسے دہراتارہے گا اوراس طرح ذہن نشین ہوجائے گی۔ابتدائی تعلیم میں اس حدتک تربیت بھی شامل ہے کہ اسے عقیدہ پریقین کرنے کے لیے کسی دلیل کی طرف دھکیلنے سے احترازکیاجائے۔اسے صرف یہ معلوم ہوکہ معلمہ کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ اسے ازبرکرنے ہیں کیونکہ یہ سوفیصدسچے ہیں۔دلائل اول تواس کی خالی ذہنی سطح سے بالاترہوں گے اورپھراسے ہربات دلائل کے ساتھ ہی ماننے کی عادت پڑجائے گی اور اساتذہ کے لیے ایسے بچے کوترسیل تعلیم مشکل میں ڈالے رکھے گی۔پس اسے سمعناواطعنا کا خوگر ہونا چاہیے تاکہ فرمانبرداری اس کےخالی ذہن  میں سرایت کرجائے۔

بنیادی تعلیم کی چوتھی بنیادمشاہدہ کے مطابق عقیدہ کے ساتھ اچھے اخلاق اسے عملاََ سکھائے جائیں گے تاکہ پہلے وہ اچھی طرح دیکھ لے اورپھراسے اپنی شخصیت میں جذب کرلے یہ ایک طرح سے تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ہے۔مثلاََ صفائی کی تعلیم دی جائے گی کہ کوڑاکرکٹ ایک خاص جگہ پرپھینکاجائے،اپنے ہاتھ ،منہ،دانت،کپڑے،جوتے،کتب،کھلونے اوراٹھنے بیٹھنے کے مقامات مٹی سے پاک ہوں۔کھانے کے آداب سکھائے جائیں کہ سب مل جل کرایک برتن میں کھاتے ہیں، پہلے دوسروں کو کھانے کی دعوت دیتے ہیں،دائیں ہاتھ سے لقمہ توڑتے ہیں،اپنے سامنے سے کھایاجاتاہے،آخرمیں برتن صاف کرتے ہیں خواہ انگلی سے ہی کرناپڑے،برتن واپس اپنی جگہ پررکھتے ہیں،کھانے سے پہلے ،درمیان اورآخرمیں پڑھی جانے والی دعائیں اوراکل و شرب کے دیگرمسنون طریقے ان کی تربیت کاحصہ ہوں۔ابتدائی تعلیم کے اگلے مرحلوں میں بچوں کو ادارے سے باہرلے جایاجائے گااورانہیں سڑک پارکرنے کی ،سڑک سے ہٹ کرطریق القدم پرچلنے کی،اپنے دائیں طرف اور دوسروں کاخیال رکھتے ہوئے اورمیانہ چال سے چلنے کی تربیت بھی دی جائے گی۔مزیداگلے مراحل میں بچوں کو چڑیاگھر، عجائب گھر،دریاکی سیر،پرندوں،جانوروں اورباغیچے میں پودوں کی نگہداشت وغیرہ کے عملی اسباق ان کی تربیت کاحصہ بنیں گے۔

                خودشناسی بنیادی تعلیم کاپہلا اہم عنصر ہے،یہاں اولاََ توبچے کانام اسے یادہوناچاہیے جواس کی اولین اورجداگانہ شناخت ہے،اس کے بعداسے اس کالڑکایالڑکی ہونے کااحساس ہوناچاہیے چنانچہ انتظامیہ کچھ ایسے انتظامات ضروربجالائے  جن سے بچوں کے اپنے فطری امتیازات کااحساس بیدارہو جیسے بچوں اوربچیوں کی علیحدہ قطاریں،علیحدہ وردی، ،ان کے علیحدہ نشستی انتظامات  یامقابلوں کی صورت میں جداگانہ مقابلے وغیرہ۔بنیادی تعلیم کے باقی عناصر خمسہ :خودشناسی،خداشناسی،حفظ،بنیادی اخلاقیات ومبادیات لسان وحسابیات اورتقابلات کوباہم جدانہیں کیاجاسکتا کیونکہ تعلیم ایک ہمہ گیرعمل ہے جس میں یہ کل عناصرمل کر ایک نظام کو متحرک رکھتے ہیں۔چنانچہ صبوحی دعا میں انہیں ایک بچے کی پیروی میں اپنے روزکے اسباق دہرانے ہوتے ہیں،یہاں ان بچوں کوادب و احترام اور اطاعت کیشی  کا درس ملتاہے،ایک بچہ تلاوت کرتاہے باقی سب سرنیچے کیے،ہاتھ باندھے صرف سنتے ہیں۔ایک بچہ نعت سناتاہے باقی سب ہمہ تن گوش ہوکی خاموش رہتے ہیں اورصرف سماعت کرتے ہیں۔پھرکلام اقبال سے “لب پے آتی ہے دعا”پڑھائی جاتی ہے،تین بچے پڑھتے ہیں اوران کی تتابعت میں سب بچے اسی مصرعے کودہراتے ہیں،اس کے بعدجملہ صبوحی اسباق بھی اسی طرح اطاعت کیشی کے درس کے ساتھ یادکرائے جاتے ہیں جن میں قومی ترانہ بھی شامل ہوتاہے۔سب بچوں کوباری باری آگے لاکرموقع فراہم کرناچاہیے کہ وہ دوسرے بچوں کو یادکرائیں،جن میں قائدانہ صلاحیتیں موجودہوں گی وہ خودسے اور بصدشوق نکل آئیں گے،شرمیلے،خوفزدہ،پست ہمت،دبی ہوئی شخصیت کے مالک  اورسہمے ہوئے بچے اول تونکلیں گے نہیں اوراگرزبردستی انہیں لاکرسامنے کھڑابھی کردیاگیاتووہ خاموش رہیں گے یارونے لگیں گے تواب یہ معلمین و معلمات کاامتحان ہے کہ ایسے بچوں کوکیسے دوسرے بچوں کے ساتتھ چلاناہے ۔اس چھوٹی سی عمرمیں اورابتدائی تعلیم میں زبانی یادکرانا بہت آسان ہوتاہے،کیونکہ کوئی بھی سبق متعددباردہرانے سے ابتدائی تعلیم کی اس عمرمیں بچے کی خالی تختی پر نقش ہوجاتاہے۔موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بچے کونمازیادکرادینی چاہیے،اسی طرح قرآن مجیدکی آخری سورتیں اور کچھ زیادہ فضیلت کی بڑی سورتیں بھی بچےآسانی سے یادکرلیتے ہیں۔بعض ابتدائی تعلیم کے ادارے پوراقرآن مجیدبھی حفظ کرادیتے ہیں۔قرآن مجیدکے حفظ سے دماغ اپنی استعدادسے بڑھ کرکام کرنے لگتاہے اور اگلے تعلیمی مرحلوں میں حفاظ بچے باقی بچوں کی نسبت زیادہ سرعت سے اسباق کوہضم کرپاتے ہیں اور روحانی برکات اس کے سواہیں۔ابتدائی تعلیم کے ابتدائی مرحلے صرف زبانی یاد کی حدتک یا  سمعی و بصری تعلیم کی حدتک ہی ہونے چاہییں۔بعدکے مراحل میں انہیں ابتدائی خواندگی کی طرف لے جایاجائے گاجس میں حروف کی پہچان، جوڑ توڑ اور معمولی حساب بھی شامل ہے۔

مقابلے کی فضا ابتدائی تعلیم میں بہت اچھے نتائج سامنے لاتی ہے۔نصابی وہم نصابی سرگرمیوں میں جب ہم جولیوں سے مقابلہ درپیش ہوتوجیتنے کاجذبہ بچے کواپنی پوری صلاحیتیں برائے کارلانے میں مددگارومہمیزثابت ہوتاہے۔یہاں ایک امرقابل غورہے کہ اس چھوٹی اورمعصوم عمرمیں شکست کے بھی بہت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں جو شخصیت میں منفی رجحانات پیداکرنے میں دیرنہیں لگاتے۔چنانچہ مدرسے کی انتظامیہ کو بہت دقیق نظرسے دیکھناہوگاکہ سو فیصد بچے کامیابی کاتمغہ سینے پرسجائے گھروں کو سدھاریں۔اس کابہت آسان طریقہ ہے،پہلے نصابی سرگرمیوں میں کامیابیاں فراہم کی جائیں،پھرکوشش کی جائے کہ جوبچے تعلیم کے میدان میں کچھ پیچھے رہ گئے ہیں وہ کھیل کے میدان میں آگے بڑھ کراعتمادنفسی حاصل کرلیں،کچھ پھربھی ابھی آخری صفوں میں رکے ہوئے ہیں توحمدونعت خوانی یا تقریر یانغمہ سرائی یابیت بازی میں انہیں سب کے سامنے لاکرنمایاں قراردے دیاجائے،پھر بھی اگر کچھ بچے باقی ہیں توانہیں مصوری،آرائش و زیبائش،پہیلیاں بوجھنے اوراس طرح کے دیگرشوقین قسم کے امورمیں کسی نہ کسی طرح سب سے بہترقراردے کرانعام کاحق دارقراردے دیاجائے۔امیدہے اس کے بعد کوئی بچہ باقی نہیں بچے گا بصورت دیگرانتظامیہ اپنی طرف سے اطاعت وفرمانبردار ی ،باقائدگی،حسن لباس،ادب و احترام،پابندی وقت،صفائی یاکسی بھی اور اخلاق  وفضیلت کومعیاربناکر اسے اعتمادفراہم کردے اوریوں سب نونہال مدرسہ سے نہال ہوکرگھروں کولوٹیں اور اپنے والدین کواپنی کامیابی کی داستانیں سناتے ہوئے اگلے دن ذوق و شوق سے بھاگتے ہوئے  اورچمکتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ اپنے کمرہ جماعت میں داخل ہوں۔

    بنیادی تعلیم کی کامیابی کاایک ہی پیمانہ ہے کہ بچہ اگلے مرحلہ تعلیم میں اپنے شوق سے داخل ہو اور وہ اپنی نئی کتب کامنتظرہو،اپنے نئے اساتذہ سے  مسرت ملاقات اس کے رویے سے ہویداہو اور اس کے خواب نئی عمارت اوربڑے بڑے کھیل کے میدانوں کی تعبیرسے آراستہ ہوں۔اس کے لیے کسی طرح کے تحریری،تقریری،زبانی یانمائشی امتحانات  کی قطعاََکوئی ضرورت نہیں ہے۔بہت چھوٹی عمرمیں اورخاص طورپر بنیادی تعلیم کے دورانیے میں امتحانات کاانعقاد بچوں میں تعلیم کے لیے  نفرت،دوری،بے رغبتی اورعدم اشتیاق کے جذبات  پیداکرتاہے۔بنیادی تعلیم کی یہ عمر ماحول سے حاصل کیے گئے اثرات کے سو فیصدانطباق کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔اگرکہیں  مقاصدتعلیم کے حصول میں کلی یاجزوی ناکامی مشاہدے میں آتی ہے تو انتظامیہ،اساتذہ ،نصاب اورماحول کو تبدیل کرنے  یاان میں بہتری لانے کی ضرورت ہے بچے اس سے کلیتاََ مبراہیں۔سوفیصدبچوں کوجو دورانیہ تعلیم مکمل کرچکے ہوں انہیں بلاتخصیص و تمیز اگلے مرحلوں میں بڑھادیناہی تعلیمی کارکردگی میں بہتری کی ضمانت ہوگی جوان میں اعتماداور شوق اورمزیدآگے بڑھنے کاجذبہ بھی پیداکرے گی۔تاہم اگرکچھ بچے دورانیہ تعلیم کے درمیان میں داخل ہوئے ہوں اور وہ باقی ہم جماعت ساتھیوں سے اپنے اسباق میں ابھی پیچھے ہوں تواساتذہ کرام سے مشاورت کے نتیجے میں انہیں حالیہ درجے میں ہی روک لیناقرین قیاس ہوگاتاکہ ان کی بنیا دمیں پختگی لائی جاسکے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ اس ٹھیراؤکواپنی ناکامی پرمحمول نہ کریں اوربخوشی اس فیصلے کوقبول کرلیں۔

تعلیم پیشہ نہیں ہے بلک شیوہ اورہ انبیاء علیھم السلام کاترکہ ہے جواپنی قوموں سے کہاکرتے تھے کہ ” وَ مَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍۚ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَﭤ(145سورۃ شعراء)اور میں تم سے اس پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔”۔لیکن دورغلامی سے سیکولرازم کے باعث نہ صرف یہ کہ ایک پیشہ بن گیاہے بلکہ بنیادی تعلیم کی حدتک یہ ایک مکروہ دھندابن گیاہے۔سیکولرازم کی پروردہ کاروباری ذہنیت سرمادارانہ رویوں نے بنیادی تعلیم کی اقدارکو بری طرح پائمال کردیاہے۔یہاں تک کہ اب بچے بچے نہیں رہے بلکہ گاہک بن گئے ہیں اورابتدائی تعلیم کے ادارے کاروباری مراکزاور دھن دولت جمع کرنے والے کارخانے بن گئے ہیں۔صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ تفریح کے دوران کے کھانے،صاف پانی،کتب ،تحریری مواد،ملبوس،ذرائع نقل و حمل اوریہاں تک کہ بال کاٹنے کاعمل بھی منافع بخش بنالیے گئے ہیں اوران ذرائع سے پیداگیری کی جاتی ہے۔مقابلے کے اس رجحان نے جہاں معیارتعلیم کا بیڑاغرق کردیاہے وہاں معیاراخلاق بھی گہناگیاہے اور مقامی معاشرتی روایات اور تہذیب و تمدن بھی دم توڑ رہے ہیں۔ان سب پر مستزاد بدیسی ذریعہ تعلیم ہے جس نے زوال کی رہی کسر بھی پوری کردی ہے اورپورانظام تعلیم اس وقت صرف ایک ہلکے سے دھکے کامنتظرہے جواسے دھڑام سے گرادے۔والدین کوخوش کرنے کے لیے نجی تعلیمی ادارے سب بچوں کو 99%شرح کامیابی سے نوازدیتے ہیں اور رقم بٹورنے کے لیے ساراسال امتحانات پرامتحانات منعقدہوتے ہیں اور نتائج کی تقریبات کے نام پربے ہودگی اوربدتمیزی کی بڑھ چڑھ کر نمائش کی جاتی ہے اوریوں جھوٹ،دھوکے اورفریب کودکھاوے اورنمائش کے ذریعے اپنی کامیابی بناکرپیش کیاجاتاہے تاکہ کاروبار کے حجم کوزیادہ سے زیادہ وسعت دی جاسکے۔لیکن مایوسی اس لیے نہیں ہے معاشرے کاصالح عنصربھی بیدارمغزقیادت کے ساتھ میدان میں موجودہے اور بہت کم سہی لیکن سرعت سے ترقی پزیر مثالی تعلیمی ادارے بھی قائم ہوتے چلے جارہے ہیں اوربہت جلد سیکولرازم کابوریابسترگول ہونے والاہے ،ان شاللہ تعالی۔

DSK
ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ڈاکٹر ساجد خاکوانی کی مزید تحریریں پڑھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share via
Copy link