فوکیشیما سے جوہری آلودہ پانی کے اخراج  کی قیمت کون ادا کرے گا ؟۔| تحریر :سارا افضل، بیجنگ

جاپان نے اندرونٰ ملک  اور بیرونٰ ملک سے ہونے والی تمام تر مخالفت  کو نظر انداز کرتے ہوئے   تباہ شدہ فوکوشیما دائیچی نیوکلیئر پاور پلانٹ سے جوہری آلودہ پانی کو 24 اگست سے  بحر الکاہل میں چھوڑننے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کے نہ صرف سمندری ماحول پر مرتب ہونے والے  طویل مدتی منفی اثرات کے بارے  میں ابھی تک کوئی حتمی اندازہ نہیں لگایا جا سکا ، بلکہ یہ اقدام سمندروں کو ” ڈمپنگ گراؤنڈ” کے طور استعمال کرنے کی بری مثال قائم بھی کرتا ہے ۔ 

مارچ 2011 میں آنے والے تباہ کن سونامی کے باعث فوکو شیما پاور پلانٹ تباہ ہو گیا تھا اوراس نیوکلیئر پاور پلانٹ کو تابکاری کے اخراج کا سامنا تھا ، جس کے نتیجے میں لیول 7 جوہری حادثہ پیش آیا ، جو بین الاقوامی نیوکلیئر اور ریڈیولوجیکل ایونٹ اسکیل پر سب سے زیادہ ہے۔یہ پلانٹ ری ایکٹر کی عمارتوں میں جوہری ایندھن کو ٹھنڈا کر کے تابکار مادوں سے آلودہ پانی کی ایک بڑی مقدار پیدا کرتا رہا ہے ،  یہ آلودہ پانی اب تک  تقریبا 1،000 اسٹوریج ٹینکس میں ذخیرہ کیا گیا ہے۔  اپریل 2021 میں،جاپان کی حکومت نے اس آلودہ پانی کے انتظام سے متعلق اپنی پالیسی شائع کی جس کی ملک کے اندر اور باہر شدید  مخالفت کی گئی ۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے  کے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اخراج سے بحرالکاہل کے علاقے میں لاکھوں زندگیاں اور معاش متاثر ہو سکتا ہے۔

انسانی حقوق کی کونسل کی طرف سے مقرر کردہ آزاد ماہرین  کا کہنا تھا کہ سمندری ماحول میں دس لاکھ ٹن آلودہ پانی کا اخراج جاپان کی سرحدوں اور اس سے باہر متعلقہ آبادیوں کے لیے کافی خطرات کا باعث ہوگا۔ جاپان کی حکومت نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی سے درخواست کی کہ جاپان کے خلاف اپنی پالیسی کے نفاذ کا آزادانہ جائزہ لے ۔ گزشتہ سال فوکوشیما نیوکلیئر پاور پلانٹ کا دورہ کرنے کے بعد بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی  کے چیف رافائیل گروسی نے کہا کہ ، ہم پانی کے اخراج سے پہلے،اس کے دوران اور بعد میں جاپان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

یہ معاملہ مختلف تنظیموں اور حکومتوں کی جانب سے با رہاسامنے لایا گیا تاہم تمام تر بین الاقوامی مخالفت کے باوجود رواں برس جولائی میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے تباہ شدہ فوکوشیما پاور پلانٹ سے دس لاکھ ٹن سے زائد ٹریٹڈ نیوکلیئر ویسٹ واٹر سمندر میں چھوڑنے کی منظوری دے دی۔  آئی اے ای اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ دو سال کے جائزے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ یہ منصوبہ ،متعلقہ بین الاقوامی حفاظتی معیارات کے مطابق ہے۔اگرچہ معاشرتی، سیاسی اور ماحولیاتی خدشات اٹھائے گئے ہیں، لیکن چھوڑے گئے پانی کا لوگوں اور ماحولیات پر ریڈیولوجیکل اثر نہ ہونے کے برابر ہوگا۔اس  حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ “غلط مشورہ” ہے اور “قبل از وقت” ہے۔ جاپان کی حکومت  نے اس معاملے پر چین کے خدشات کو ‘سیاسی رنگ’ قرار دیا  اور اس سے قبل جمہوریہ کوریا، آسٹریلیا ،نیوزی لینڈ اور جزائر بحرالکاہل کے ممالک کی جانب سے ظاہر کیے گئے خدشات کو “غیر ضروری “‘ قرار دیا تھا۔ ملک کے اندر سے اٹھنے والی مخالفت کے جواب میں جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ  “جو اس اقدام سے متاثر ہوں گے ، حکومت” ٹریٹڈ پانی” کو ٹھکانے لگانے تک ان کی  پوری ذمہ داری لینے کے لیے پرعزم ہے۔” یعنی یہ عمل اتنا محفوظ نہیں ہے جتنا بتایا جا رہا ہے ” متاثرین ” یقیناً ہوں گے ، جاپان میں بھی ،ملحقہ علاقوں میں بھی اور سمندری حیات بھی ، کیا یہ تمام اس “ذمہ داری اٹھانے” کے دائرہ کار میں آئیں گے ؟

فجی کی غیر سرکاری تنظیم کولیشن آن ہیومن رائٹس  نے حالیہ دنوں اپنے ایک بیان میں آئی اے ای اے کی رپورٹ کو ‘انتہائی سیاسی’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ  یہ “فوکوشیما منصوبے کا مناسب اور  آزادانہ جائزہ نہیں ہے۔جاپان کی جانب سے تابکار پانی کو بحر الکاہل میں پھینکنے کا یہ اقدام بحرالکاہل خطے کے  تمام لوگوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔”بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی جانب سے اس “نیوکلیئر ویسٹ ” کو محفوظ قرار دیے جانے کے باوجود انسانوں ،سمندری حیات نیز  ایشیا اور بحرالکاہل کے لاکھوں لوگ جو سمندری وسائل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں ان کے ذریعہ معاش کے لیے اس خطرے کی شدت بہت زیادہ ہے ،  وہ اس سے براہ راست متاثر ہوں گے اس کے علاوہ  اس کے نتائج خوراک کے عالمی نظام پر بھی  مرتب ہوں گے۔ بڑھتے ہوئے کینسر کے خدشے کے پیش نظر غذائی ماہرین کا ماننا ہے کہ سمندر میں اندھا دھند ایسے مواد  چھوڑنے کا خطرہ یہ ہے کہ یہ فوڈ چین میں سرایت کر سکتے ہیں ۔مقامی باشندوں، خاص طور پر ماہی گیری کی صنعت سے وابستہ لوگوں کا ماننا ہے کہ اس غیر ذمہ دارانہ فیصلے پر بین الاقوامی سطح پر ہونے والی ناراضگی تو دور کی بات ہے، اس سےسب سے پہلے تو ان کے ذریعہ معاش کو نقصان پہنچے گا اور سونامی کی تباہی کے بعد سے اس صنعت کی بحالی کے لیے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کی جانے والی تمام کوششیں ختم ہو جائیں گی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے سمندر نے ہماری پرورش کی ہے،یہ انسانوں  کے لیے  کوڑے دان نہیں بلکہ آبی حیات کا مسکن ہے  یہ خوراک کا ذریعہ ہے اسے اس زہریلی تابکاری سے آلودہ نہیں ہونا چاہیے ۔ اس علاقے میں پکڑی جانے والی مچھلیاں اب 2011 کے زلزلے سے پہلے کے حجم کے صرف 20 فیصد کے برابر ہیں، حالانکہ مچھلی کی قیمتیں زلزلے سے پہلے کی سطح کے 70 سے 80 فیصد تک بحال ہو چکی ہیں۔ اب جب مقامی ماہی گیری کا شعبہ آہستہ آہستہ بحال ہو رہا ہے تو  اس پانی کا اخراج سب کچھ برباد کر سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عام خطرناک کیمیکلز کے برعکس ، تابکار مادے کیمیائی ٹریٹمنٹ  کے بغیر غائب نہیں ہوں گے کیونکہ نیچر  بھی خود کو ایک محدود حد تک ہی خود صاف  صاف کر سکتی ہے۔سمندری ماحولیاتی نظام اور ہماری زندگیوں پر تابکار مواد کے طویل مدتی اثرات کا کوئی مناسب  حتمی تخمینہ ابھی تک نہیں لگایا جا سکا ہے ۔

جاپان کا یہ منصوبہ  اقوام متحدہ کے سمندری قانون سے متعلق کنونشن کے تحت جاپان کی اپنی عالمی ذمہ داریوں کے بھی منافی ہے، جو براہ راست سمندری ماحول کے تحفظ اور تحفظ سے متعلق آرٹیکل 192 اور 195 اور حصہ 12 کے تقریبا تمام آرٹیکلز کی خلاف ورزی کرتا ہے۔آلودہ  پانی کے مسئلے کا شکار ،جزائر  بحرالکاہل کے ممالک  20 ویں صدی کے وسط سے بحرالکاہل میں جوہری تجربات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تابکار آلودگی اور ماحولیاتی آفات  کے باعث  متعدد  مصائب کا شکار ہیں ۔ بحر الکاہل صرف جاپان کا  نہیں اس دنیا کا سمندر ہے  ، اس میں جو آلودگی پھیلے گی وہ جاپان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ بہتے پانی کے ساتھ تمام دنیا میں پہنچے  گی ،ایسے میں تمام ممالک کو ان تمام  اقدامات کو روکنا چاہئے جو  ایک اور بڑی جوہری آلودگی کی تباہی کا آغاز بن سکتے ہیں ۔

Sara
سارہ افضل، بیجنگ

سارا افضل کی مزید تحریریں پڑھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share via
Copy link