چینی و امریکی صدور کی ملاقات ،   دنیا  مثبت نتائج کے لیے پر امید۔|تحریر: سارا افضل، بیجنگ

چین اور امریکہ دونوں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہیں اور چین اور امریکہ بالترتیب دنیا کے سب سے بڑے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ملک ہیں۔ بہت سے عالمی چیلنجوں کے لئے دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں اور تعاون کی ضرورت ہے۔ چین اور امریکہ کے تعلقات، دنیا کے سب سے اہم دوطرفہ تعلقات میں سے ایک  ہیں جو نہ صرف  دونوں ممالک  بلکہ  پوری دنیا کی فلاح و بہبود پر اثر انداز ہوتے ہیں. دنیا بھر میں ڈی لپلنگ کے خلاف جب کہ امریکا اور چین کے درمیان مستحکم تعلقات کے مطالبے میں اضافہ ہو رہا ہے۔

عالمی ماہرین جو دونوں ممالک کے تعلقات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ دنیا ایک  دوراہے پر کھڑی ہے ایسے میں  چین اور امریکا کے تعلقات کو دیکھنے اور ان سے نمٹتے وقت دونوں ممالک کو صرف زیرو سم گیم نہیں بلکہ  لارجر پکچر  دیکھنی چاہیے۔ چین کی ترقی یا امریکا کی ترقی ایک دوسرے کے لیے چیلنجز پیدا کرنے کے بجائے مواقع پیش کرتی ہے۔پچاس سال قبل دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات میں آنے والی سرد مہری کو پیچھے چھوڑ کر کو تعلقات کو معمول پر لانے کا سفر شروع کیا تھا۔ تمام تر نشیب و فراز کے باوجود چین اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ نصف صدی کے دوران آگے ہی  بڑھ رہے ہیں۔ہر ملاقات اور ہر اجلاس میں چین کا طرزِ عمل بتاتا ہے کہ اس کی کوشش اور خواہش ہے کہ  دونوں ممالک ایک دوسرے کے بنیادی مفادات اور اہم خدشات کا احترام کریں، امن کے ساتھ مل جل کر رہیں  اور باہمی تعاون کو آگے بڑھائیں ۔ چین کا موقف یہی رہا ہے کہ تعاون کو مرکزی دھارے میں ہونا چاہیے کیونکہ عالمی امن اور ترقی کا دارومدار تعاون پر ہے، اگر دونوں ممالک کے درمیان معیشت اور تجارت میں مسابقت ہو تو بھی یہ مثبت اور منصفانہ ہونا چاہیے۔چین اور امریکا کے درمیان تعاون کے وسیع شعبے اور متعددامکانات موجود ہیں اور اگر امریکہ چین پر اپنی برآمدی پابندیوں میں نرمی کا انتخاب کرتا ہے تو دونوں ممالک کا تجارتی حجم اوربھی بڑا ہوگا اور اس طرح دونوں ممالک اور ان کے عوام کو زیادہ فوائد حاصل ہوں گے۔

گزشتہ سال نومبر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بروکنگز انسٹی ٹیوشن کا کہنا تھا کہ  امریکا کو چین کے ساتھ “پائیدار اور نتیجہ خیز تعلقات” قائم کرنے ہوں گے، دونوں ممالک  دوطرفہ اور کثیر جہتی ، دونوں شعبوں میں مشترکہ مفادات رکھتے ہیں اور ان کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ فارن پالیسی میگزین نے ایک تجزیے میں کہا ہے کہ ڈی کپلنگ  ابھی تک کسی موثر طریقے سے نہیں ہو رہی ہے ، نہ ہی یہ طویل مدتی سے، اور نہ ہی اس کا امکان ہے. رپورٹ میں امریکی کاروباری ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات گہرے ہیں اور بہت سے شعبوں میں گہرے ہو رہے ہیں ،  ڈی کپلنگ  امریکی عالمی مسابقت کو کمزور کر دے گی اور امریکی کاروباری برادری  اسی لیے اس کے حق میں نہیں ہے بلکہ وہ چین کے ساتھ تعاون کو امریکی معیشت کے حق میں فائدہ مند سمجھتی ہے۔وباکے طویل دور  اور کچھ عرصہ قبل  واشنگٹن کی جانب سے  عدم تعاون کے روئیے کے باوجود ، چین اور امریکا کی تجارت ۲۰۲۱ میں سال بہ سال ۲۰۔۲ فیصد بڑھ کر 4.88ٹریلین یوآن (۷۱۹ بلین امریکی ڈالر) ہوگئی۔ سال 2022 کے پہلے 11 ماہ میں باہمی تجارت کی مالیت 4.62 ٹریلین یوآن (681 ارب ڈالر) رہی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 4.8 فیصد زیادہ ہے۔ 

اقتصادی اور تجارتی تعاون چین اور امریکا کے تعلقات کی بنیاد ہے۔ دوطرفہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات باہمی فائدے پر استوار ہوتے ہیں نہ کہ زیرو سم گیم پر ، امریکہ کے ایک بڑے تجارتی شراکت دار چین سے الگ ہونے یا اس کے ساتھ اقتصادی تعلقات منقطع کرنے سے دوسروں اور خود امریکہ کو نقصان پہنچے گا۔ چین ایک  مضبوط صنعتی چین قائم کر چکا ہے ۔ مالی سال 2021 کے لیے سپلائرز کی فہرست کے مطابق مین لینڈ چائنا ، امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی پروڈکشن بیس  ہے، جہاں اس کے 190 میں سے 150 سپلائرز کی فیکٹریز ہیں۔دریں اثنا، چین ، امریکی کاروباری اداروں کے لیے  “ٹاپ مارکیٹ “بنا ہوا ہے، 83 فیصد ممبر کمپنیز  کا کہنا ہے کہ  وہ مینوفیکچرنگ کو چین سے باہر منتقل کرنے یا آوٹ سورسنگ پر غور نہیں کر رہے ہیں، گزشتہ سال امیریکن چیمبر چائنا کی طرف سے جاری کردہ امریکن بزنس ان چائنا وائٹ پیپر 2022 کے مطابق چیمبر کے ارکان کا ماننا ہے کہ “ڈی کپلنگ ” کسی بھی ملک کے معاشی مفاد میں نہیں ہے۔

ایپک اجلاس کے موقع پر جہاں دنیا کی نظریں عالمی معیشتوں کے مشترکہ لائحہ عمل پر مرکوز ہیں وہیں دو بڑی طاقتوں اور بڑی عالمی معیشتوں کے درمیان متوقع  تعاون  کے حوالے سے بھی دنیا بے حد پر امید ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملاقات صرف معیشت اور تعاون پر ہی مرکوز نہیں ہوگی ملاقات کے ایجنڈے میں بہت سے اہم امور شامل ہیں اور چینی صدر کی بردباری اور تحمل مزاجی سے معاملات کو سنبھالنے کی صلاحیت  بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے ، اسی لیے  عالمی امور کے ماہرین اس ملاقات  کے نتیجہ خیز ہونے کے حوالے سے بے حد پر امید ہیں ۔

Sara
سارہ افضل، بیجنگ

سارا افضل کی مزید تحریریں پڑھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share via
Copy link