پھنگ یاؤ کا فلم فیسٹیول. | تحریر: محمد رضوان عارف

Spread the love

شمالی چین کے صوبے شانشی میں ایک قدیم شہر ہے، پھنگ یاؤ۔ صدیوں پرانی دیواروں اور تنگ گلیوں والا یہ شہر عام دنوں میں تاریخ کی خاموشی اوڑھے رکھتا ہے، مگر ہر سال ایک ہفتے کے لیے یہاں ایک الگ ہی چہل پہل شروع ہو جاتی ہے۔ اس بار یہ چہل پہل کچھ خاص تھی، کیونکہ یہاں پھنگ یاؤ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے دسویں اور یادگار ایڈیشن کا آغازہوا، جس میں دنیا بھر سے فلم ساز اور سینما کے دیوانے ایک ساتھ جمع ہوئے۔رواں سال میلے کا موضوع  تھا “چلتے رہو”  اور اسی جذبے کے مطابق میلے میں ابھرتے ہوئے ہدایت کاروں کی تازہ ترین فلمیں دکھائی گئیں، جن میں سے بیشتر کا یہ ایشیا یا چینی سرزمین پر پہلا نمائشی موقع تھا۔ میلے کے بانی اور معروف چینی ہدایت کار جیا زانگ کے نے بتایا کہ مرکزی حصے کے لیے منتخب تمام فلمیں چینی سرزمین پر پہلی بار دکھائی گئیں اور ان میں سے پچھتر فیصد سے زیادہ فلموں کا یہ ایشیا میں بھی پہلا نمائشی موقع تھا۔ہفتہ بھر جاری رہنے والی تقریب میں تقریباً چالیس ممالک اور خطوں سے کل پچاس فلمیں دکھائی گئیں، جن میں فرانس، امریکہ اور میکسیکو جیسے ممالک کی فلمیں بھی شامل تھیں۔ ان فلموں کے موضوعات بھی خاصے متنوع تھے،  کہیں حقیقت پر مبنی کہانیاں تھیں تو کہیں دیہی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر اور کہیں سماجی و ثقافتی مسائل پر روشنی ڈالی گئی ۔ یہ تنوع ہی دراصل اس میلے کی اصل خوبصورتی ہے۔اسی میلے میں کچھ چینی فلمیں بھی نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ “اے گرل ان نون”، “لائٹ پلر” اور “زوم اِن، زوم آؤٹ” جیسی فلمیں اس سے پہلے کان اور برلن جیسے عالمی فلمی میلوں میں بھی دکھائی جا چکی ہیں، جہاں انہیں عالمی سطح پر سراہا گیا اور ایوارڈز بھی ملے۔ یہ کامیابیاں دراصل چینی زبان کے نئے ہدایت کاروں کی گہری بصیرت اور پختہ فن کاری کا ثبوت ہیں۔

فلم بینی کے شوقین قی تیانئی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں بہترین فلمیں دریافت کرنے آئے ہیں اور ایسے لوگوں سے ملنے کے منتظر ہیں جو ان کی طرح سینما سے محبت رکھتے ہیں۔ ان کے بقول وہ منفرد فلمیں دیکھنے اور ان کہانیوں سے متاثر ہونے کے شدت سے منتظر تھے۔یہ میلہ صرف فلمیں دکھانے تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں فورمز، ماسٹر کلاسز اور کنسرٹ جیسی سرگرمیاں بھی شامل تھیں۔ ساتھ ہی اس میلے کے ذریعےفلم انڈسٹری کو دس ادبی تخلیقات کی سفارش بھی کی جاتی ہے، جبکہ نئے ٹیلنٹ کو تلاش کرنے اور نوجوان تخلیق کاروں کو ایک دوسرے سے خیالات کا تبادلہ کرنے کا پلیٹ فارم بھی فراہم کیا جاتا ہے۔نئے اور نمایاں ہدایت کاروں کو ایوارڈز اور انڈسٹری میں رابطوں کے مواقع دے کر یہ میلہ عالمی فلمی صنعت میں نوجوان تخلیقی توانائی کی مسلسل شمولیت کو یقینی بناتا ہے۔ جیا زانگ کے نے اس بارے میں بتایا کہ چینی فلمی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ان کے پاس ایک جامع تربیتی نظام موجود ہے۔ ان کے مطابق نوجوان ہدایت کار پھنگ یاؤ آتے ہیں، یہاں خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں، فلمیں دیکھتے ہیں، ماسٹر کلاسز میں شرکت کرتے ہیں اور سیکھتے ہیں۔ انہوں نے فخر سے بتایا کہ گزشتہ ایک عشرے میں ایسے کئی ہدایت کار جنہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز پھنگ یاؤ سے کیا، آج مکمل فیچر فلمیں بنا رہے ہیں جنہیں ناظرین کی بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔یوں دیکھا جائے تو پھنگ یاؤ کا یہ میلہ محض فلموں کی نمائش کا نام نہیں۔ یہ دراصل ایک ایسی روایت بن چکا ہے جہاں نئی نسل کے فلم ساز اپنی آواز پاتے ہیں، اور ایک قدیم شہر کی پرانی دیواروں کے درمیان نئی کہانیاں جنم لیتی رہتی ہیں۔

محمد رضوان عارف کی مزید تحریرں پڑھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *